تحریر۔۔ بن محمد
کشمیر آج ایک ایسا زندان ہے جس کی دیواریں اینٹوں سے نہیں، سیاست، مفاد، منافقت اور خاموشی سے بنی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس زندان میں کہیں لوہے کی سلاخیں ہیں اور کہیں ترپال کے کیمپ؛ کہیں قیدیوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہیں اور کہیں بچوں کے ہاتھوں میں راشن کارڈ۔ مگر قید ہر جگہ ایک جیسی ہے۔سانس لینے کی اجازت، جینے کی ضمانت نہیں۔
اگر کشمیری ہونا ایک ناقابلِ تقسیم شناخت ہے، اگر کشمیری مظفرآباد میں بھی کشمیری ہے، سرینگر میں بھی، گلگت میں بھی، لداخ میں بھی تو پھر یہ چالیس ہزار کشمیری کون ہیں جنہیں ریاستوں نے شناخت کے بغیر جینے پر مجبور کر دیا؟ یہ وہ لوگ نہیں جو سرحد پار کسی شوق میں آئے تھے؛ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تاریخ نے دھکیل دیا، سیاست نے استعمال کیا، اور ریاست نے بھلا دیا۔ ان کے حصے میں نہ آزادی آئی، نہ تحفظ صرف انتظار آیا، ایک ایسا انتظار جو نسلوں تک پھیل گیا۔
یہ کیمپ ابتدا میں عارضی تھے، مگر عارضی پن مستقل بن گیا۔ خیموں نے جھونپڑیوں کی شکل لی، جھونپڑیوں نے کمروں کی، مگر زندگی نے کبھی گھر کی صورت اختیار نہ کی۔ یہاں بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کی پہلی پہچان کیمپ ہوتی ہے؛ وہ بڑے ہوتے ہیں تو ان کا خواب بھی محدود ہو جاتا ہے؛ اور جب وہ بوڑھے ہوتے ہیں تو ان کی یادداشت میں صرف وعدے رہ جاتے ہیں وعدے جو ہر حکومت نے کیے، مگر کسی نے نبھائے نہیں۔ یہ کیمپ اب پناہ گاہ نہیں، یہ زندہ قبریں ہیں جہاں امید دفن ہوتی ہے اور وقار آہستہ آہستہ دم توڑتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر انہیں آباد کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا زمین نہیں؟ کیا وسائل نہیں؟ یا کیا نیت نہیں؟ زمین ان کے لیے نکل آتی ہے جو طاقت کے قریب ہوں؛ وسائل ان کے لیے بہتے ہیں جن کے ہاتھ میں اختیار ہو؛ اور نیت ان کے لیے جاگتی ہے جن سے سیاسی فائدہ ہو۔ کشمیری مہاجر نہ ووٹ بینک ہیں، نہ طاقت کا ستون اس لیے وہ ترجیحات کی فہرست میں ہمیشہ آخر میں رہتے ہیں، یا فہرست سے باہر۔
ادھر ہندوستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں زندانوں کی سلاخیں چیختی ہیں۔ یاسین ملک ہو یا آسیہ اندرابی، شبیر شاہ ہو یا درجنوں گمنام نوجوان وہاں بولنا جرم ہے، سوچنا جرم ہے، اور کشمیری ہونا بذاتِ خود ایک الزام۔ کالے قوانین، لمبی قیدیں، اور نہ ختم ہونے والی فردِ جرمیں یہ سب ایک پیغام دیتی ہیں کہ مزاحمت کو خاموش کر دو، تاریخ کو قید کر دو، اور شناخت کو توڑ دو۔ مگر ستم یہ ہے کہ ادھر آزاد خطوں میں بھی کشمیری آزاد نہیں فرق صرف طریقۂ قید کا ہے۔ وہاں بندوق بولتی ہے، یہاں خاموشی۔یہ دوہرا ظلم ہے۔ ایک طرف جیلیں، دوسری طرف کیمپ۔ ایک طرف سلاخیں، دوسری طرف ترپال۔ ایک طرف عدالتیں، دوسری طرف فائلیں۔ مگر نتیجہ ایک ہی: کشمیری کی زندگی معطل۔ نہ وہ مکمل شہری ہے، نہ مکمل مہاجر؛ نہ اس کے زخموں کا اعتراف، نہ ان کے علاج کا انتظام۔ وہ ایک ایسی کہانی ہے جسے تقریروں میں پڑھا جاتا ہے، مگر زندگی میں نہیں اپنایا جاتا۔ہم نے کشمیر کو سفارتی کارڈ بنا دیا ہے۔ جب عالمی فورم پر جانا ہو، تو کشمیریوں کے دکھ دکھائے جاتے ہیں؛ جب قرارداد درکار ہو، تو قربانیوں کے قصے سنائے جاتے ہیں؛ مگر جب بات ان کے بچوں کے اسکول کی آئے، ان کی چھت کی آئے، ان کے روزگار کی آئے تو ریاست کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ وسائل ختم ہو جاتے ہیں، قوانین آڑے آ جاتے ہیں، اور ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ یہ وہ منافقت ہے جو کسی جیل سے کم اذیت ناک نہیں۔

کیا یہ سوال نہیں بنتا کہ جو ریاست کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہ اپنے دروازے پر بیٹھے کشمیریوں کو کیوں نہیں سنبھال سکتی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم نے کشمیری کو مزاحمت کی علامت تو بنایا، مگر زندگی کی ضمانت نہیں دی؟ کیا یہ اعتراف مشکل ہے کہ ہم نے ایک قوم کو دہائیوں تک نعرہ بنا کر استعمال کیا اور جب نعرے کی گونج مدھم ہوئی تو انسان کو بھلا دیا؟
یہ پنتالیس ہزار کشمیری دراصل ہمارے دعوؤں کی کمزوری ہیں۔ یہ زندہ ثبوت ہیں کہ مسئلہ کشمیر صرف سرحدوں کا نہیں، نیت کا مسئلہ ہے۔ اگر نیت ہوتی تو آبادکاری کوئی معمہ نہ ہوتی؛ اگر نیت ہوتی تو یہ لوگ خیرات کے محتاج نہ ہوتے؛ اگر نیت ہوتی تو ان کے بچوں کے ہاتھ میں شناختی کارڈ کے ساتھ شناخت بھی ہوتی۔ مگر نیت کے بغیر ہر منصوبہ کاغذ رہ جاتا ہے، اور ہر کاغذ آخرکار فائل میں دفن ہو جاتا ہے۔
https://themind.pk/?p=12642
ریاستیں اکثر امن کی بات کرتی ہیں، مگر امن کی پہلی شرط انصاف ہے۔ انصاف کے بغیر امن محض وقفہ ہوتا ہے ایک ایسا وقفہ جس میں ظلم شکل بدل لیتا ہے۔ کشمیر میں بھی یہی ہوا: کہیں ظلم نے جیل کی شکل لی، کہیں کیمپ کی۔ مگر دونوں جگہ انسان ٹوٹا، خواب بکھرے، اور نسلیں زخمی ہوئیں۔
کشمیر کا حل تقریروں میں نہیں، انسانوں میں ہے۔ جب تک کشمیری کو نعرہ نہیں بلکہ انسان سمجھ کر اس کی زندگی سنواری نہیں جاتی، تب تک کوئی قرارداد، کوئی بیان، کوئی وفد کچھ نہیں بدلے گا۔ حل تب آئے گا جب کیمپ ختم ہوں گے، جیلیں خالی ہوں گی، اور کشمیری کو اپنی زمین، اپنی شناخت اور اپنی زندگی پر اختیار ملے گا۔
ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ ایک قوم تھی جس کے نام پر سیاست کی گئی، جنگیں لڑی گئیں، اور اخلاقیات کے دعوے کیے گئے مگر جب وہ قوم دروازے پر آ کھڑی ہوئی، تو سب نے نظریں چرا لیں۔ اور یہ وہ سطر ہوگی جسے نہ کوئی ترمیم مٹا سکے گی، نہ کوئی تقریر، نہ کوئی پرچم۔کشمیر آج بھی زندان ہے کہیں جیلوں میں، کہیں کیمپوں میں۔اور اس زندان کی سب سے اونچی دیوار ہماری خاموشی ہے۔