جنوری کا مہینہ کشمیریوں کے لیے صرف بھارتی یومِ جمہوریہ کا مہینہ نہیں بلکہ قتلِ عام کی ایک خونی تاریخ کا استعارہ ہے۔
تحریر: ارشد میر

بھارت ہر سال 26 جنوری کو بڑے طمطراق کے ساتھ اپنا نام نہاد ’’یومِ جمہوریہ‘‘ مناتا ہے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دے کر عالمی ضمیر کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہی تاریخ جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے تناظر میں دیکھی جائے تو یہ جشن نہیں بلکہ ایک تلخ یاد، ایک گہرا زخم اور جبر و استبداد کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن کشمیریوں پر گزشتہ 78 برسوں سے فوجی قبضہ مسلط ہے، جن سے ان کا پیدائشی حقِ خودارادیت چھینا گیا ہے، جو ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں اجتماعی قبروں، جبری گمشدگیوں، عصمت دری، ماورائے عدالت قتل اور بدترین ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر چکے ہیں،ان کے پاس بھارتی یومِ جمہوریہ منانے کا آخر کون سا اخلاقی، قانونی یا انسانی جواز موجود ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی یومِ جمہوریہ، جمہوریت کی فتح کا نہیں بلکہ جمہوری اقدار کی تدفین کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ و آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 26 جنوری کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بھارت کا جمہوری چہرہ درحقیقت ایک خون آلود نقاب ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز تعینات ہیں، جو دنیا کے کسی بھی آبادی والے خطے میں سب سے بڑا فوجی جماؤ ہے۔ یہ فوج جمہوریت کی محافظ نہیں بلکہ ایک قابض قوت کے طور پر کشمیریوں کی ہر سانس، ہر آواز اور ہر حرکت پر پہرہ دے رہی ہے۔ بھارتی یومِ جمہوریہ سے قبل پابندیوں میں مزید سختی، کرفیو نما صورتحال، گھروں پر چھاپے، تلاشی کی کارروائیاں، ناکے، ڈرون نگرانی اور سی سی ٹی وی کی یلغار اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا یوم جمہوریہ وبال، عذاب اور جمہور کُش ہے۔
سرینگر کا بخشی اسٹیڈیم ہو یا جموں کا مولانا آزاد اسٹیڈیم، شمال کے کپواڑہ، ہندواڑہ، بارہ ملہ اور بانڈی پورہ ہو یا جنوب کے اسلام آباد، پلوامہ، کولگام اور ترال، صوبہ جموں کے راجوری، پونچھ، ڈوڈہ ،کشتواڑ ہو یا جموں، ادھمپور اور سامبا وغیرہ، مقبوضہ علاقہ کے طول و عرض میں بندوق کی نالی کے سائے میں ’’تقاریب‘‘ منعقد کی جاتی ہیں۔ اگر بھارت واقعی ایک جمہوری ریاست ہے اور خاص طور مودی سرکار نے اگست 2019 کے بعد سے کشمیر کو "فتح” کرلیا ہے تو اسے کشمیریوں کی رضامندی سے خوف کیوں ہے؟ اگر یہ علاقہ بھارت کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے تو پھر بھارت کا ہرقومی دن اور سربراہ مملکت کا دورہ کشمیریوں کے لئے وبال جان بن کر کیوں آتا ہے۔ ان مواقعو ں پہ پورے کشمیرکو فوجی چھاؤنی میں کیوں بدل دیا جاتا ہے؟

جنوری کا مہینہ کشمیریوں کے لیے صرف بھارتی یومِ جمہوریہ کا مہینہ نہیں بلکہ قتلِ عام کی ایک خونی تاریخ کا استعارہ ہے۔1990 سے لیکر 1994 تک قتل عام کے درجنوں سانحات میں سے 5 اسی ماہ میں رونما ہوئے جس کی بنیاد پر کشمیر میں اس مہینے کو خونی مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ 19 جنوری 1990 کو مگرمل باغ سرینگر میں 14، 21 جنوری 1990 کو گاؤکدل سرینگر میں 51 ( برطانوی صحافی ولیم ڈالرِمپل کے مطابق قریبا 200)، 25 جنوری 1990 کو ہندواڑہ میں 25 اور 6 جنوری 1993 کو سوپور میں 60 سے زائد بے گناہ اور نہتے شہریوں کو قتل اورسینکڑوں مکانات و دکانوں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا، صرف ماہ جنوری میں پیش آمدہ یہ روح فرسا واقعات کشمیریوں کو کافی جوازیت عطا کرتے ہیں وہ بھارتی جمہوریت کا دن منانے کے بجائے اس پر ماتم کریں۔
یہ قتلِ عام اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت نے کشمیر میں اپنی نام نہاد جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے خون کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں جبکہ قاتل وردی میں ملبوس اہلکار آج بھی آزاد گھوم رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد گریچوئٹی، پینشن اور دیگر سرکاری انعامات، سہولیات اور مراعات کے ساتھ مزے کی زندگی گذاررہے اور عالمی تو دور بھارت کے اپنےقوانین منہ بسور کر لاچارگی کے ساتھ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ یہی ہے بھارت کا انصاف، یہی ہے اس کی جمہوریت!
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے مظالم محض قتل و غارت تک محدود نہیں رہے۔ اگست 2019 میں دفعہ 370 اور 35-A کی منسوخی کے بعد، بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت کشمیر میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ لاکھوں بھارتی ہندؤں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، کشمیریوں زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ان کو روز گار کے اپنے وسائل سے محروم کیا جارہا ہے، انھیں سرکاری نوکریوں سے برخاست کیا جا رہا ہے اور ان کی مسلم اکثریتی شناخت اور خود انحصاری کے ذرائع کو دانستہ مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

جینوسائیڈ واچ کے انتباہ، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ کشمیر میں حالات نسل کشی کے کلاسیکی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بھارت بے خوف ہو کر ’’یومِ جمہوریہ‘‘ کے نام پر جشن مناتا ہے۔یہ جشن نہیں، کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی اور عالمی اصول و قوانین اورانسانی و اخلاقی اقدار کا تمسخر ہے۔
اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ان قراردادوں پر دستخط کر چکے ہیں، مگر عملدرآمد کی راہ میں واحد رکاوٹ بھارت کی ہٹ دھرمی اور معاندانہ روش ہے۔ ایسے میں بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں یومِ جمہوریہ منانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل کہ اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے، دراصل کشمیری عوام کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے کہ جب تک غلامی مسلط ہے، تب تک کوئی جشن، کوئی پرچم اور کوئی تقریب قابلِ قبول نہیں۔کشمیریوں کے لیے 26 جنوری نہ جمہوریت کا دن ہے، نہ آزادی کا، بلکہ یہ قبضے، جبر، قتلِ عام اور غلامی کی علامت ہے۔ بھارت کے 78 سالہ قبضے کی کونی اور شیطانی تاریخ، پولیٹیکل انجینئرنگ، دس لاکھ فوج کا تسلط، کالے قوانین کی تلوار، قتلِ عام، تذلیل، عددی اور تہذیبی تطہیراور خودارادیت سمیت تمام بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی، یہ سب مل کر اس دن کو ’’یومِ سیاہ‘‘ منانے کے لیے ہزار نہیں بلکہ لاکھ وجوہات فراہم کرتے ہیں۔
کشمیری عوام کا یہ پرامن مگر واضح پیغام ہے کہ بندوق اور ریاستی جبر کے زور پر مسلط کی گئی جمہوریت، جمہوریت نہیں ہوتی۔ اصل جمہوریت وہی ہے جو عوام کی مرضی سے جنم لے۔اور کشمیر میں وہ دن تب آئے گا جب کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ تب تک، 26 جنوری سمیت بھارت کا کوئی قومی دن کشمیریوں کے لیے جشن نہیں بلکہ نفرت، ماتم، احتجاج، مزاحمت اور عہدِ آزادی کا دن رہے گا۔