افغانستان میں نئے قوانین کے نفاذ کے بعد معاشرتی تقسیم
ارسلان سدوزئی:افغانستان میں نئے نافذ کیے گئے قوانین کے مطابق ملک کے عوام کو چار درجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ہر طبقے کے لیے مخصوص قانونی استثنیٰ اور حدود مقرر کی گئی ہیں جو ملک کی سماجی اور مذہبی ساخت کو یکسر بدلنے کی کوشش کے مترادف ہیں۔
سب سے پہلا درجہ علماء اور فقہاء کا ہے، جنہیں سب سے معزز طبقہ قرار دیا گیا ہے۔ ان افراد کو ہر قسم کا استثنیٰ حاصل ہوگا اور انہیں کسی عدالت میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ طبقہ افغان معاشرے میں سب سے زیادہ عزت اور وقار کا حامل سمجھا جائے گا۔
دوسرے درجے میں افغان اشرافیہ شامل ہے، جس میں قبائلی سردار، وار لارڈز اور معززین شہر شامل ہیں۔ اگرچہ ان افراد کو عدالت میں طلب کیا جا سکتا ہے، لیکن قوانین کے تحت انہیں سخت سزائیں نہیں دی جا سکیں گی۔
تیسرے درجے میں متوسط طبقہ شامل ہے، جیسے تاجر، چھوٹے زمیندار اور سرکاری ملازمین۔ اس طبقے کے افراد پر عدالت کارروائی کر سکتی ہے، مگر سخت قسم کے تشدد سے انہیں محفوظ رکھا جائے گا۔
چوتھا اور سب سے نچلا درجہ عام افغان غریب کا ہے، جس میں مزدور اور دھقان شامل ہیں۔ ان پر قوانین کے تحت ہر قسم کی سزا اور تشدد جائز ہوگا۔
نئے قوانین میں خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے لیے بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ نو سال کی لڑکی کو قانونی طور پر عورت سمجھا جائے گا اور خواتین کے امور میں مردوں کا اختیار ہوگا۔
جبکہ تشدد کے کچھ محدود اصول بھی قائم کیے گئے ہیں، جیسے زخمی نہ کرنے کی شرط۔ سنی حنفی مسلک کے علاوہ دیگر مسالک کے لوگ "بدعتی” اور "گمراہ” قرار دیے گئے ہیں اور انہیں اپنی عبادات گھروں میں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ قوانین افغان معاشرے میں مختلف طبقوں کے درمیان فاصلے کو قانونی شکل دے رہے ہیں اور آئندہ چند ماہ یا سالوں میں اس کے اثرات معاشرتی اور مذہبی سطح پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔