سردیوں میں سر درد کیوں ہوتا ہے
ارسلان سدوزئی :سر میں درد کو عموماً ایک معمولی اور وقتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، مگر ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ تکلیف کئی بار جسم کی جانب سے دیا جانے والا ایک سنجیدہ اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔ سر درد بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ روزمرہ زندگی، کام کی صلاحیت اور ذہنی سکون کو شدید طور پر متاثر کر دیتا ہے۔
خصوصاً سردیوں کے موسم میں سر درد اور بھاری پن کی شکایات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سر درد کا مؤثر علاج اسی وقت ممکن ہے جب اس کی قسم اور اصل وجہ کو درست طور پر سمجھا جائے، کیونکہ ہر سر درد کی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض سر درد ذہنی دباؤ کے باعث ہوتے ہیں، کچھ نیند کی کمی، پانی کی قلت یا غلط طرزِ زندگی سے جڑے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ کسی اندرونی طبی مسئلے کی نشاندہی بھی کر سکتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر دوسرا بالغ فرد سال میں کم از کم ایک مرتبہ سر درد کا سامنا ضرور کرتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سر درد کو وقتی تکلیف سمجھ کر بار بار دردکش ادویات استعمال کرنا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ مستقل آرام کے لیے درد کی اصل وجہ جاننا بے حد ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ٹینشن ہیڈیک ہے، جس میں پیشانی یا گردن کے پچھلے حصے میں دباؤ اور جکڑن محسوس ہوتی ہے، جیسے سر کو کسی پٹی سے باندھ دیا گیا ہو۔ یہ درد عموماً ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند کی کمی، کمپیوٹر یا موبائل اسکرین کے زیادہ استعمال اور غلط بیٹھنے کے انداز کی وجہ سے ہوتا ہے اور اکثر آرام، پانی پینے یا عام دردکش دوا سے کم ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس مائیگرین ایک شدید اور طویل المدت سر درد سمجھا جاتا ہے، جس میں سر درد کے ساتھ متلی، قے، تیز روشنی یا آواز سے حساسیت اور بعض اوقات آنکھوں کے سامنے روشنی کی لکیریں یا دھندلے دھبے نظر آنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مائیگرین سے متاثرہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ذاتی محرکات کی شناخت کریں، جن میں ہارمونز کی تبدیلی، مخصوص غذائیں، کیفین، موسم کا بدلنا اور بے قاعدہ نیند شامل ہو سکتی ہیں۔
کلسٹر ہیڈیک کو سر درد کی کم مگر نہایت تکلیف دہ قسم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ درد مخصوص وقفوں میں بار بار ہوتا ہے اور اکثر رات کے وقت نیند سے جگا دیتا ہے۔ عام طور پر یہ درد سر کے ایک حصے، خاص طور پر آنکھ کے گرد شدید چبھنے کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی، الکحل، شدید گرمی، بلندی پر جانا یا بعض مخصوص ادویات اس درد کو بڑھا سکتی ہیں اور اس کے علاج کے لیے عموماً ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات ضروری ہوتی ہیں۔
جب سر درد کا تعلق سائنَس کے مسئلے سے ہو تو پیشانی، گالوں اور آنکھوں کے اطراف بھاری پن اور دباؤ محسوس ہوتا ہے، جو سوزش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ناک بند ہونا، رطوبت کا بہنا، چہرے میں درد اور بعض اوقات بخار بھی ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسے درد میں نمکین پانی سے ناک کی صفائی، ڈی کنجیسٹنٹ ادویات اور انفیکشن کی صورت میں مناسب علاج سے افاقہ ممکن ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیفین کا غیر متوازن استعمال بھی سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ جو افراد روزانہ چائے یا کافی پینے کے عادی ہوتے ہیں، اگر وہ اچانک کیفین ترک کر دیں یا ضرورت سے زیادہ استعمال کریں تو سر درد، چڑچڑاپن اور غیر معمولی تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں کیفین کو آہستہ آہستہ کم کرنا اور پانی کا استعمال بڑھانا مفید ثابت ہوتا ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر سر درد بار بار ہو، غیر معمولی طور پر شدید ہو یا اس کے ساتھ بخار، نظر کی خرابی، قے، بے ہوشی یا جسم کے کسی حصے میں کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو خود علاج کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سر درد کسی بڑے اور سنجیدہ طبی مسئلے کا ابتدائی اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔