عمران خان کی آنکھوں کا پمز اسپتال میں معائنہ
اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بانی اور زیرِ حراست سابق وزیر اعظم عمران خان ایک انتہائی حساس اور سنگین آنکھوں کے مرض میں مبتلا ہیں، جو بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم عمران خان کی بہنوں نے اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی حقیقت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق، مبینہ مستند ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آنکھ کی رگ میں خطرناک حد تک رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ڈاکٹروں نے اس بیماری کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر علاج وقت پر نہ کیا گیا تو بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی نے مزید بتایا کہ جیل انتظامیہ یہ علاج جیل میں کرانے پر زور دے رہی ہے، لیکن ڈاکٹروں کے مطابق جیل میں اس نوعیت کا علاج ممکن نہیں۔ پارٹی نے عدالت سے دائر درخواست کا حوالہ دیا، جو اگست 2025 سے زیر التوا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اہلِ خانہ اور قریبی عزیزوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے اور عمران خان کا علاج شوکت خانم اسپتال یا کسی اور معتبر نجی اسپتال میں کرنے دیا جائے۔
دوسری جانب عمران خان کی بہنوں نے یہ دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو ہفتے کی شب اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کر کے علاج کرنے کی خبریں درست نہیں ہیں۔
پمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو ہفتے کی شب اسپتال لایا گیا اور ایک طبی عمل انجام دیا گیا جو رات گئے تک جاری رہا، جس کے بعد انہیں اتوار کی صبح واپس جیل منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر کے مطابق عمران خان کی آمد سے قبل اسپتال میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے اور آپریشن تھیٹر اور اینستھیزیا روم محدود کر دیے گئے۔ تاہم اسپتال کے ایک اور ڈاکٹر نے اس خبر کی تردید کی اور کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے سے سیاسی تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔
علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے انہیں اور اہلِ خانہ کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ معلومات میڈیا تک کیسے پہنچی۔
عظمیٰ خان نے بتایا کہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر کو تقریباً 20 منٹ کے لیے ہوئی، جس دوران عمران خان نے آنکھوں کے کسی سنگین مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی ملاقات میں صرف آنکھوں کے قطرے دینے کا ذکر ہوا تھا۔ چونکہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، خاندان عمران خان کی موجودہ طبی حالت سے لاعلم ہے۔
نورین خان نے کہا کہ اگر عمران خان کی آنکھ سے متعلق کوئی سنگین مسئلہ ہے تو یہ سب سے پہلے اہلِ خانہ کو بتایا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی خبریں پھیلانا خاندان کے حوصلے کی آزمائش ہے اور اگر ان کی بینائی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
اس دوران، پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت طلب کی ہے، اور عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔