تحریر۔۔۔ مقصود منتظر

میں ایک ہندو لڑکی ہوں اور میں ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہوں۔۔۔۔ کل کو اگر یہ بچہ بندوق اٹھائے کیونکہ کشمیری ہونا جرم سمجھا جاتا ہے اور مسلمان ہونا جرم سمجھا جاتا ہے تو کیا ہم اسے دہشت گرد کہیں گے؟ کیوں ایسا ماحول بنایا جارہا ہے۔۔
یہ انوشی تیوری نامی ہندو لڑکی کا پیغام وہ پیغام ہے جو اس نے ایکس پر ایک زخمی کشمیری نوجوان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے۔ سولہ سالہ کشمیری نوجوان بھارت کی اترا کھنڈ ریاست میں شال بھیجنا گیا تھا جہاں اسے بی جے پی اور دیگر انتہا پسندو جماعتوں کے بھلوائیوں نے محض کشمیری ہونے کی بنیاد پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کی وجہ سے کشمیری نوجوان کے سر پر بھی چوٹیں آئیں ۔ یہ بھارتی ریاستوں ہریانہ ، ہماچل پردیش، یو پی اور اترا کھنڈ میں کسی کشمیری نوجوان پر ہونے والے تشدد کا پہلا واقعہ نہیں گزشتہ تین چار ماہ سے یہ واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ پچھلے تین ماہ میں یہ پانچواں واقعہ ہے۔آج کے واقعہ کی بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر انسانیت کا درد رکھنے والے کئی بھارتیوں نے بھی اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا ۔
آپ جانتے ہیں جموں و کشمیر میں محنت مزدوری کرنے والے بہاریوں کی تعداد تین سے چار لاکھ ہیں ۔ یہاں بھارتی باشندے ہر سال سیاحت کے غرض بھی سے بھی لاکھوں میں آتے ہیں ۔حالیہ برفباری کے دوران ہزاروں میں بھارتی شہری گلمرگ ،پہلکام ، سری نگر اور دیگر سیاحتی مقامات پر ڈھیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ وہ نہ صرف وادی کشمیر کی خوبصورت کو انجوائے کررہے ہیں بلکہ یہاں کی مہمان نوازی سے بھی خاصا متاثر ہوکر جاتے ہیں ۔ دراصل کشمیری عوام ہیں ہی مہمان نواز۔ اسی وجہ سے وہ اپنے اس عمل کا دل کھول کر مظاہرہ بھی کرتے ہیں ۔ پچھلے 35 سال سے یہاں تحریک آزادی بھی جاری ہے لیکن کبھی کسی کشمیری نے کسی نہتے ہندوستانی کو یوں چوک چوراہے پر بھارتی ہونے کے جرم میں نہیں مارا ہوگا لیکن کشمیری نہ صرف بھارتی ریاستوں میں انتہا پسند ہندوو کی نفرق کا شکار ہورہے ہیں بلکہ چند کشمیری نوجوان بالخصوص طالب علم اس کی بھینٹ بھی چڑھ چکے ہیں۔

اس میں دو رائے نہیں ہے کہ بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد بھارت میں سکیولر سوچ دفن ہوچکی ہے اور اب صرف ہندو راشٹر یا اکھنڈ بھارت کے نقشے میں رنگ بھرنے کیلئے اچھے برے سب اقدامات ہورہے ہیں ۔ ہندو عوام بالخصوص نوجوان طبقے کے ذہنوں میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف نفرت کا ذہر بھر دیا جارہا ہےجس کی وجہ سے اقلیتوں پر تشدد کے واقعات تواتر سے پیش آرہے ہیں ، کبھی کسی کو گائے کے گوشت کے شک پر جان سے مار دیا جاتا ہے تو کبھی کسی کو وندے مادرم نہ کہنے پر گھلاگھونٹ دیا جاتا ہے ۔ کبھی کسی کو اذان دینے پر اوپر پہنچادیا جاتا ہے تو کسی کو کرسمس منانے پر صلیب چڑھایا جاتا ہے ۔ یہ کام باقاعدہ اور کھلے عام ہوتا ہے یہ شرمناک کام زیادہ تر نوجوان جھتے کی صورت پر انجام دیتے ہیں اور پولیس یا معاشرے کے بااثر لوگ تماشہ دیکھ کر لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں ۔ حکومت اور عدلیہ بھی ان واقعات سے نظریں چراکر خاموش ہوجاتی ہیں ۔
یہ ہندوستانی جب کشمیر آتے ہیں تو ان کو کشمیری عوام سر آنکھوں پر بٹھادیتے ہیں جب کشمیری بھارت جاتے ہیں وہاں سے یا تو اس کا لاشہ آتا ہے یا پھر زخمی بدن ۔ جس کی وجہ سے پچھلے ساڑھے تین دہائیوں سے کئی مصائب اور مشکلات سہنے والے عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہوتی ہے ۔ کشمیری چپ چاپ یہ سب کچھ سہہ لیتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہیں کی ان کی فریاد کسی نے نہیں سنی ۔ حتی کہ وزیر اعلی عمر عبداللہ بھی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو ٹال دیتے ہیں ۔

ایسے میں پاسبان مل گئے کعبہ صنم خانے سے ، کے مترادف اب انوشی تیواری جیسے لوگ کشمیریوں کی بے بسی دیکھ کر انسانیت ظاہر کرتی ہے تو یقینا اچھا لگتا ہے لیکن انوشی صرف ان جیسے واقعات پر شرمندگی یا افسوس کا اظہار نہیں کرتی بلکہ وہ بھارت اور اس کی حکومت کو ایک طرح سے خبردار بھی کررہی ہے کہ ایسے واقعات سے ہی دراصل کشمیریوں کی طرف سے وہ رد عمل سامنے آنے کا خدشہ ہے جس کو کل تم دہشت گردی کہو گے ۔ وہ لکھتی آگر آج کا متاثرہ یا زخمی بچہ کل انصاف کیلئے بندوق اٹھاتا ہے تو اس وقت بھارتی معاشرے کے پاس کیا جواب ہوگا ۔۔
یہ تو تھا انوشی تیواری کا خدشہ ۔ لیکن اگر صحیح معنوں میں دیکھیں تو یقین کیجے ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی جان بوجھ کر کشمیر میں آگ لگانا چاہتا ہے وہ آگ جو ہندو مسلمانوں تک پہنچ سکتی ہے۔ سوچی سمجھی سازش لگ رہی ہے جس کا خاکہ کچھ یوں ہے کہ کشمیری باشندوں کو اتنا تنگ کرو کہ وہ دوبارہ بھارت رگڑو کے نعرے لگانے سڑکوں پر نکل آسکیں اور قتل عام ہو۔ اس قتل عام کی ایک کڑی اکھنڈ بھارت کے خواب سے جڑے گی ۔ یاد رہے مودی سرکار کشمیر کو فتح کرنا چاہتی ہے ، 5 اگست 2019 کو جو بھارت نے کیا ، لگتا ہے مسقتبل قریب میں اس سے بھی کچھ بڑا ہونے والا ہے ۔۔
تحریر ۔۔۔ مقصود منتظر