مہنگائی ہے کہ نہیں میرے ہاتھ جواب دیں گے
::::::::::ارسلان سدوزئی
بیٹا میرے ہاتھ دیکھو ،یہی تمہارے سوال کا جواب ہیں ۔ کیا مہنگائی کم ہوئی ؟بس یہی سوال تھا۔ تو اس نے حیرت سے دیکھا اور پوچھا کہ واقعی مہنگائی کم ہوئی ہے؟بہرحال اس نے نم آنکھوں سے حسرت اور بے چینی میں مبتلا ہوتے ہوئے جواب دیا کہ خدا راہ جو گزر بسر آج سے چار برس پہلے ہوتا تھا وہ اب ممکن نہیں ۔
پہلے دیہاڑی کم ضرور تھی لیکن کم از کم ایک دن میں جو پیسے ملتے تھے اس میں آٹے کا تھیلا آ جاتا تھا ۔لیکن اب اجرت بڑھنے کے باوجود دو دیہاڑی لگا کر بھی آٹے کا تھیلا خریدنا مشکل لگتا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر اشیا خوردنوش کا حساب کیا بتاوں ۔
اسی انٹرویو کے دوران ایک شخص پاس سے گزرا جو حیرت انگیز نظروں سے دیکھ رہا تھا ،میں نے پوچھا جی تو بولا میں بھی بول سکتا ہوں ،وہی سوال دہرایا کہ کیا مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے ،بے بسی کی ہسی ہستے ہوئے بولا میرا نام نہ لکھنا لیکن جو 2018 میں جو اچھا گزر بسر 40ہزار میں ہو رہا تھا وہ اب 80 سے 90 ہزار روپے میں بھی نہیں ہو رہا ۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں ایک ایسا دور بھی دیکھا جب مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم اب اس میں نمایاں کمی آ کر یہ تقریباً پانچ فیصد تک آ گئی ہے۔ لیکن افراطِ زر میں اس کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اشیائے ضروریہ سستی ہو گئی ہیں، بلکہ صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ آمدن میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی حقیقی قوتِ خرید اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔
مالی حالات سے تنگ لوگ جو بیرون ملک منتقل ہوئے ان میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد 18,352 رہی۔ اس دوران سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب منتقل ہوئے، جن کی تعداد 5,30,256 تھی۔ متحدہ عرب امارات میں 52,664 پاکستانی منتقل ہوئے، جبکہ قطر میں یہ تعداد 68,376 اور بحرین میں 37,726 رہی۔ کویت میں 6,590 پاکستانی ملازمت کے لیے گئے۔ گزشتہ سال امریکہ جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 1,005 تھی، جبکہ برطانیہ میں 4,355، جرمنی میں 984 اور اٹلی میں 813 پاکستانی ملازمت کے لیے گئے۔ اس کے علاوہ چین میں 2,230، جاپان میں 2,210 اور رومینیا میں 1,109 پاکستانیوں نے نئی منزل اختیار کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی اتحادی حکومت ٹی وی پر آ کر تو سب اچھا کی رپورٹ دیتے،اور حکومتی وزرا تو آئے روز بڑے دھرلے سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ملک اقتصادی طور پر مستحکم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قدر برقرار ہے۔
کاروبار سے جڑے افراد کا ماننا ہے کہ اگرچہ پاکستانی معیشت کے ڈیفالٹ کا خطرہ ٹلنے کے بعد معاشی استحکام آ چکا ہے، مہنگائی کم ہوئی ہے اور بظاہر اقتصادی اعداد و شمار یا خسارے وغیرہ میں بھی کمی آئی ہے۔ تاہم ماہرین کے بقول اقتصادی استحکام کے باوجود عام لوگوں یا کاروباروں کی حالت نمایاں بہتری نہیں آئی ہے۔
پاکستان کی حکومت کی جانب جاری ہونے والے ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق سال 2018 -2019 کے مقابلے میں سال 2024-2025 میں تنخواہوں میں اضافے کے بعد بھی عوام کے معیار زندگی میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کے لیبر فورس سروے کے مطابق مالی سال 2025 میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو پچھلے دو دہائیوں میں بلند ترین ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام اور قدرتی آفات نے مائیکرو اکنامک استحکام تو دیا ہے، لیکن حقیقی خوشحالی اور اقتصادی ترقی نہیں آئی۔ مزید برآں، ٹیکس اور بلند شرح سود نے کاروباری مواقع محدود کر دیے، جس سے معیشت کا استحکام ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکا۔