خودکشی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے

ہر سال خودکشی کے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو انسان کو غور و فکر پر مجبور کر دیتے ہیں کہ آخر لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیوں کر لیتے ہیں…..ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2025 میں ایک ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کی ۔ جبکہ سال میں ہر 3افراد میں سے ایک فرد اپنی جان ختم کرنے کی جانب قدم اٹھاتاہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ایک فی صد یعنی 25 لاکھ افراد کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں۔۔۔۔
پاکستان میں ہر 4میں سے ایک نوجوان جبکہ ہر 5میں سے ایک بچہ کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔ماہر نفسیات کا کہناہے ۔خودکشی کسی ایک وجہ سے نہیں ہوتی۔بلکہ یہ کئی عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔جب انسان طویل عرصے تک ذہنی دباؤ میں رہے اور اسے بات کرنے یا مدد لینے کا موقع نہ ملے تو وہ انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔۔ گھریلو چپقلش بھی ایک اچھے سوچ سمھ والے انسان کو شدید ڈپریشن ا شکار کرسکتا ہے ۔۔۔۔ نوجوان نسل میں آئس جسے دیگر نشہ آور چیزوں کے استعمال کی وجہ سے ذہنی امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ماہرین کے مطابق ڈپریشن، ٹینشن اور ذہنی بیماریوں کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔۔اس لیے متاثرہ افراد مدد لینے سے کتراتے ہیں۔۔
سموگ سے سانس کی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ،ایڈوائزری جاری
عالمی ادارے صحت نے کہا ہے کہ 10 ہزار ذہنی مریضوں پر ایک نفسیاتی ڈاکٹر ہوناچاہیے۔ملک میں تقریباً 5 لاکھ 500 مریض پر صرف ایک نفسیاتی ڈاکٹر کی سہولت ہے ۔۔۔۔ گر ہم وقت پر سن لیں، سمجھ لیں اور مدد فراہم کریں تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، زندگی مشکلات سے بھری ہو سکتی ہے، لیکن ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ خاموشی توڑنا اور مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ حوصلے کی علامت ہے، اگر آپ یا آپ کے اردگرد کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو خاموش نہ رہیں۔ بات کریں، مدد لیں اور زندگی کو ایک اور موقع دیں۔ کیونکہ ایک جان، ایک خاندان اور ایک معاشرے کے لیے بے حد قیمتی ہوتی ہے۔