کوئٹہ شہر تک دہشت گرد کیسے پہنچے
کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور غیر بلوچ شہریوں پر درجنوں حملوں کی ذمہ دار رہی ہے، جن میں چینی شہری بھی شامل ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
بی ایل اے کے اہم رہنماؤں میں بشیر زیب بلوچ شامل ہیں، جو تنظیم کے ایک مضبوط دھڑے ’’زیب گروپ‘‘ کی قیادت کرتے ہیں۔ وہ عسکری اتحاد بلوچ راجی اجوئی سانگڑ (براس) کا بھی حصہ رہ چکے ہیں، جو چار شدت پسند تنظیموں پر مشتمل ہے۔ بشیر زیب بلوچ بی ایل اے کی خودکش کارروائیوں پر مشتمل مجید بریگیڈ کے سربراہ بھی ہیں، جس کی بنیاد اسلم بلوچ نے رکھی تھی۔
تنظیمی ڈھانچہ اور سرگرمیاں
مقامی ذرائع کے مطابق بی ایل اے تین ذیلی یونٹس پر مشتمل ہے،جب میں آپریشنل یونٹ،لاجسٹک یونٹ،اور انٹیلی جنس یونٹ شامل ہے ۔
تنظیم کے ترجمان جیوند بلوچ ہیں جبکہ بزدار خان لاجسٹک یونٹ کے سربراہ بتائے جاتے ہیں۔ دیگر اہم کمانڈروں میں نور بخش مینگل، رحیم گل اور آغا شیر دل شامل ہیں۔
بی ایل اے کا مری گروپ مستونگ، مچھ، ہرنائی، کوئٹہ، آواران اور دیگر اضلاع میں سرگرم ہے، جبکہ زیب گروپ بلوچستان کی ساحلی پٹی اور مشرقی علاقوں میں اپنی موجودگی رکھتا ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں تنظیم کی کارروائیاں بلوچستان کے 22 اضلاع تک پھیل چکی ہیں، جبکہ کراچی کے بعض علاقوں میں بھی اس کی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں۔
افغانستان اور بیرونی معاونت کے الزامات
پاکستانی حکومت کے مطابق بی ایل اے کو بھارت کی مالی اور لاجسٹک مدد حاصل ہے، تاہم بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ حکام کے مطابق بعض خودکش حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور سہولت کاروں کا تعلق بھی وہاں سے جوڑا جا رہا ہے۔
گزشتہ برس 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے میں تین اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق حملے میں ملوث تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔
حالیہ حملے پر حکومتی مؤقف
کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ عناصر خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن ان کا بلوچ شناخت سے کوئی تعلق نہیں، یہ دہشت گرد ہیں۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بشیر زیب بلوچ اور دیگر شدت پسند رہنما اس وقت افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ماضی کے حملے
ذرائع کے مطابق 11 مارچ 2015 کو سبی کے علاقے میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کی قیادت بشیر زیب بلوچ کر رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے حملہ آوروں سے رابطے میں موجود ایک اہم شخص کی نشاندہی کی، جس کے بعد ہیلی کاپٹر اور ڈرون کارروائی کے نتیجے میں یہ رابطہ منقطع ہو گیا اور حملہ آوروں کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق بی ایل اے کے پیچیدہ نیٹ ورک، جغرافیائی پھیلاؤ، سرحد پار پناہ گاہوں اور مقامی معاونت کے باعث سکیورٹی اداروں کے لیے اس تنظیم پر مکمل قابو پانا ایک مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے اس نیٹ ورک کو کمزور کیا جا رہا ہے۔