اسلام آباد
فرینڈز آف کشمیر کے وائس چیئرمین عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ کشمیر پر بھارت کے جھوٹے بیانیے اور بار بار کے الزامات سے مقبوضہ جموں کشمیر کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے۔ کشمیر اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت ایک متنازعہ علاقہ ہے، بھارت کا انتظامی یا اندرونی مسئلہ نہیں یے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں سے حق خود ارادیت کا وعدہ کیا گیا تھا، پھر بھی دنیا کا سب سے زیادہ ملٹری رائزڈ زوون ہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر دہشت گردی کے ڈرامے رچائے اور سیاسی مزاحمت کے درمیان لائن کو دھندلا دیا ہے، کشمیر کی پر امن طور پر وکالت کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی سے جوڑنا بین الاقوامی قانون اور اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔اختلاف رائے، آزادانہ صحافت اور شہری احتجاج کو انسداد دہشت گردی کے وسیع قوانین کے تحت مجرمانہ بنایا ہے۔ یہ انسداد دہشت گردی نہیں ہے – یہ لوگوں کی آوازوں کو منظم طریقے سے خاموش کرنے کی سازش ہے۔ غیر قانونی گرفتاریاں ،جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبریں، اجتماعی سزا، بچوں کو پیلٹ بلائنڈنگ، خواتین کی بے آبرو ریزی، گھروں کو مسمار کرنا جائیدادوں کو ضبط کرنا اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کی قید دراصل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
عبدالحمید لون نے مزید کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین لاگو کرکے بین الاقوامی قانون کو مٹانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جمہوریت کے نام پر دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکا جا سکتا ہے بیان بازی سے غیر قانونی قبضے کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ حقیقت کو تسلیم کرکے لوگوں کو انصاف دینا ہوگا۔