کوئٹہ شہر تک دہشت گرد کیسے پہنچے
اسلام آباد۔۔۔
سینیٹ کے اجلاس میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی پر شدید بحث ہوئی اور ایوانِ بالا نے مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اراکینِ سینیٹ نے سیکیورٹی ناکامیوں، احتساب کی کمی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ حکومت نے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے دشمن قرار دے کر زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کیا۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا، جس میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے باعث ایجنڈا نمبر 6 سے 17 تک مؤخر کر دیا گیا۔ قائم مقام چیئرمین کے مطابق سینیٹ ہاؤس کمیٹی میں اہم قانون سازی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایجنڈا تبدیل کیا گیا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے بلوچستان میں سیکیورٹی ناکامیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے حملوں کے باوجود کسی نے استعفیٰ نہیں دیا، جبکہ مہذب دنیا میں ایسے واقعات پر وزرا مستعفی ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اربوں روپے سیکیورٹی پر خرچ ہو رہے ہیں، پھر بھی حملے گھنٹوں جاری رہے اور میڈیا پر کرکٹ پر توجہ دی جاتی رہی۔
وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے ایوان میں کہا کہ بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے عناصر ناراض نہیں بلکہ پاکستان کے دشمن ہیں، جو بھارت کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا، 17 اہلکاروں اور 33 سویلین کو شہید کیا گیا، جبکہ 170 دہشت گرد ہلاک اور متعدد گرفتار ہوئے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے عناصر سے کوئی بات چیت نہیں ہونی چاہیے اور انہیں دہشت گرد ہی کہا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی، جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد میں سیکیورٹی فورسز کے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، قومی اتحاد، دہشت گرد نیٹ ورک توڑنے اور شہداء کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
سابق وزیراعظم اور سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے مگر یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست مظلوم ہے اور عسکریت پسندوں کی حمایت کرنے والے بیانیے درست نہیں۔
پوزیشن نے ایوان میں سوال اٹھایا گیا کہ کوئٹہ جیسے حساس شہر تک دہشتگرد کیسے پہنچے، اور تین گھنٹے جاری رہنے والے حملوں کے دوران عوام کو بروقت آگاہ کیوں نہیں کیا گیا نینشل پارٹی کے جان محمد بولیدی کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے، اور جب تک انصاف اور عوامی شمولیت نہیں ہوگی امن قائم نہیں ہو سکتا۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر جام سیف اللہ نے کہا کہ دہشت گردی صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف سازش ہے، جبکہ بی اے پی کے سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد کرائے کے لوگ ہیں اور ان سے بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی ہے، صرف طاقت استعمال کرنا حل نہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے پر زور دیا۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ایک ہی وقت میں بلوچستان کے 12 سے 14 شہروں میں حملے ہونا صرف دہشت گردی نہیں بلکہ گہرے مسائل کی نشاندہی ہے، جن کا تدارک ضروری ہے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سینیٹ قائمہ کمیٹی مواصلات میں پیش آنے والے تنازع پر معذرت کی، جس پر سینیٹر پلوشہ خان نے ایوان میں باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔