جموں کشمیر یونائیٹڈ فورم کے عہدیداروں کی پریس کانفرنس
اسلام آباد ۔۔مقصود منتظر
اسلام آباد اور راولپنڈی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں نے اپنے حقوق ، انصاف کی فراہمی ، ایک دوسرے کے تعاون سمیت دیگر مقاصد کیلئے جموں کشمیر یونائیٹڈ فورم کا قیام عمل میں لایا ہے جس کے پہلے چیئرمین ضیافت حیات خان ہوں گے ۔ جموں کشمیر یونائیٹڈ فورم کے نو منتخب عہدیداروں نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورم کے اغراض و مقاصد سامنے رکھ دیئے
چیئرمین فورم ضیافت حیات خان نے چیف آرگنانزر نعیم حیات خان، سینئر وائس چیئرمین آصف قیوم ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری وقاص جاوید، ترجمان فورم اشتیاق قریشی، چیف کوآرڈینیٹر ندیم رضا جنڈالوی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عرفان رائے، ایڈیشنل سیکرٹری شوکت جنڈالوی، وائس چیرمین عبدلشکور اور دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی

انہوں نے کہا کہ یہ فورم راولپنڈی اور اسلام آباد (جڑواں شہروں) بشمول ان کی تحصیلوں میں آباد ایسے کشمیری شہریوں پر مشتمل ہو گا جو مستقل رہائش، ملازمت یا کاروبار کی غرض سے ان علاقوں میں مقیم ہیں۔فورم کی تشکیل کا بنیادی مقصد جڑواں شہروں میں آباد کشمیریوں کی جان، مال، عزت و آبرو اور عزتِ نفس کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ فورم تمام کشمیریوں کو بلا تفریق رنگ، نسل، علاقہ، قبیلہ، قوم، نظریہ اور فکر ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جہاں وہ اپنے معاملات باہم شیئر کر سکیں اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کا دست و بازو بن سکیں۔یہ فورم ہر اس کشمیری کی آواز بنے گا جو کسی بھی جانب سے زیادتی، دھونس، قبضہ، ہراسانی یا ناانصافی کا شکار ہو۔
چیئرمین فورم نے کہا کہ یہ فورم کشمیریوں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گا اور قومی اتحاد و یکجہتی کو انصاف کے حصول کی بنیادی کنجی تصور کرے گا۔ یہ فورم ہر قسم کی سیاسی، مذہبی، علاقائی، قبیلائی، گروہی اور مسلکی وابستگی سے مکمل طور پر پاک ہو گا اور خالصتاً کشمیریوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گا۔فورم کے نام یا پلیٹ فارم کو کسی بھی سطح پر ذاتی، کاروباری، سیاسی یا مسلکی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ایسے افراد فورم کی رکنیت کے اہل نہیں رہیں گے اور انہیں بلا نوٹس فورم سے خارج کیا جا سکے گا۔فورم کے پلیٹ فارم پر کسی بھی شخص یا گروہ کو ذاتی یا اجتماعی مقاصد کے لیے فنڈ ریزنگ کی اجازت نہیں ہو گی، سوائے اس کے کہ کور کمیٹی تحریری طور پر کسی مخصوص مقصد کے لیے منظوری دے۔ خلاف ورزی کی صورت میں رکنیت فوری ختم کر دی جائے گی۔ فورم ہر قسم کی سیاسی، مذہبی، علاقائی، قبیلائی اور مسلکی فرقہ واریت اور تعصب کی مکمل نفی کرتا ہے اور ایسے عناصر کو فورم میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کروڑ پتی بننےکا چکر، خاتون افسر پہلے ہی دن رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

ضیافت حیات خان نے مزید کہا کہ یہ فورم کشمیری خواتین کو تمام شہریوں کے برابر حقوق کا علمبردار ہو گا اور جڑواں شہروں میں آباد کشمیری خواتین کی فلاح کے لیے باقاعدہ خواتین ونگ قائم کیا جائے گا۔خواتین کی ہراسانی یا عزتِ نفس کو مجروح کرنے کی ہر کوشش کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا اور فورم ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔کشمیری بچیوں، طالبات، ورکنگ وومن اور خواتین وکلاء کے تحفظ کے لیے خواتین ونگ کے تحت رجسٹریشن اور رابطہ نظام قائم کیا جائے گا۔ فورم جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں کشمیریوں پر مشتمل علاقائی تنظیمیں قائم کرے گا جو مقامی امور دیکھیں گی اور مرکزی پالیسی کو عوام تک پہنچائیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فورم تربیتی نشستوں، مکالمہ سیشنز اور اجتماعات کے ذریعے اخلاقیات، شہری ذمہ داریوں اور قانون کی آگاہی کو فروغ دے گا۔ فورم کا مقصد کشمیریوں کے درمیان باہمی روابط، ہمدردی اور اجتماعی ترقی کے راستے تلاش کرنا اور سماجی میل جول کو فروغ دینا ہے۔ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت بلتستان، جموں اور لداخ کے وہ تمام شہری جو راولپنڈی، اسلام آباد یا ملحقہ علاقوں میں مقیم ہوں، بلا تفریق رنگ، نسل، علاقہ، قبیلہ، مذہب یا مسلک، فورم کی رکنیت کے اہل ہوں گے۔