کن شرائط پر امریکہ ایران جنگ بندی پر راضی ہوئے
شہباز شریف کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام دانشمندانہ اور دور اندیش قیادت کا مظہر ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے حوالے سے اہم مذاکرات جمعے کو اسلام آباد میں متوقع ہیں، جن میں امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطحی شخصیات شرکت کریں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکی وفد میں ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیر اسٹیو وٹکوف کی شرکت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پیش رفت میں پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو اہمیت دی جا رہی ہے، تاہم دفتر خارجہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض دعوے مستند نہیں اور ان کی
سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
جنگی صورتحال میں فلائٹ آپریشن کب تک بند رہے گا
ایرانی قیادت نے جنگ بندی کو عارضی وقفہ قرار دیتے ہوئے اپنی افواج کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے تمام عسکری یونٹس کو فوری طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا حکم دیا گیا، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ مستقل امن معاہدہ نہیں بلکہ وقتی پیش رفت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملے بند رہے تو ایران بھی جوابی کارروائی سے گریز کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں محدود مدت کے لیے محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے اہم عسکری مقاصد حاصل کر چکا ہے اور اب طویل المدتی امن معاہدے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ نکات کو مذاکرات کی بنیاد بنایا جا رہا ہے، اور دو ہفتوں کی مہلت حتمی معاہدے کو ممکن بنانے میں مدد دے گی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ برطانوی سفارتکار جین میریٹ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
امریکہ کو آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر عالمی حمایت نہ مل سکی
واضح رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان کی قیادت سے رابطوں کے بعد ایران پر حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کیا جا رہا ہے، اور یہ جنگ بندی دونوں جانب سے ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔