فلم کیرالہ ٹو پر تنقید ، کیرالہ میں محاذ کھڑا ہوگیا
رپورٹ ۔۔ مقصود منتظر
ممبئی: بھارت کی فلم دنیا بالی ووڈ کی متنازع فلم کیرالہ ٹو ریلیز سے پہلے ہی شدید عوامی و فنی حلقوں کی تنقید کی زد میں آگئی ہے۔ مختلف شہروں میں فلم کی مجوزہ ریلیز کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پر بھی اس فلم کو نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق فلم میں پیش کیے گئے مناظر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کئی سول سوسائٹی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلم کی ریلیز سے قبل مواد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔
اس تنقیدی فضا میں نامور بھارتی اداکاروں نے بھی کھل کر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ معروف اداکار پرکاش راج نے سوشل میڈیا پر فلم کو “ معاشرے کو تقسیم پیدا کرنے والی فلم ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ فن کا مقصد خوف یا نفرت پھیلانا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح سینیئر اداکار کمل حسن نے بھی ماضی کی طرح ایسے منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا جو معاشرے میں غلط فہمیاں بڑھائیں۔
دیگر شخصیات نے بھی فلم پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ فلمی آزادی کا مطلب نفرت انگیزی نہیں ہونا چاہیے۔سینما کو معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ حساس موضوعات کو ذمہ داری سے پیش کرنا ضروری ہے۔
تنقید کی بنیادی وجوہات۔۔۔مذہبی حساسیت کا معاملہ
ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم میں بعض مذہبی طبقات کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔
سیاسی ایجنڈے کا الزام
بعض تجزیہ کاروں نے فلم کو ایک مخصوص سیاسی بیانیے کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد انتخابی ماحول میں جذبات کو ابھارنا ہے۔ فلم کے ایک سین جس میں ایک لڑکی کو زبردستی گوشت کھلایا جاتا ہے وائرل ہوچکا ہے جس پر میمز اور ریلیز بنائی جارہی ہیں ۔ یہ ریلیز کوئی اور نہیں خود بھارتی لوگ بنارہے ہیں ۔
ریلیز پر پابندی کے مطالبات
مختلف ریاستوں میں سماجی تنظیموں نے فلم کی نمائش روکنے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں، جبکہ کچھ حلقے سنسر بورڈ سے نظرِ ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
قانونی اور سماجی صورتحال
بھارت میں متنازع فلموں کے حوالے سے ماضی میں بھی عدالتوں اور ریاستی حکومتوں کی مداخلت دیکھی گئی ہے، جیسا کہ The Kerala Story کے معاملے میں ہوا تھا، جس پر سپریم کورٹ تک سماعت ہوئی تھی۔ اسی طرح بعض دیگر فلمیں بھی ریلیز سے قبل شدید تنقید اور احتجاج کا سامنا کر چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر فلم کے حق اور مخالفت میں مہمات جاری ہیں۔ کچھ صارفین اسے "حقیقت پر مبنی کہانی” قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے "پروپیگنڈا فلم” کہہ رہے ہیں۔
دوسری جانب فلم سازوں کا موقف ہے کہ فلم حقائق پر مبنی ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آتی ہے۔ تاہم ناقدین اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انتخابی ماحول میں اس نوعیت کی فلمیں حساسیت کو بڑھا سکتی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بڑھتے دباؤ، احتجاجی مظاہروں اور فنی برادری کی تنقید کے بعد متعلقہ حکام اور فلم ساز آئندہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، اور آیا فلم اپنی موجودہ شکل میں ریلیز ہو پاتی ہے یا نہیں۔

وزیر اعلی کیرالہ کی بھی تنقید
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے کہا کہ فلم کے پہلے حصے نے ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلم نے ریاست کی سیکولر روایات کو کمزور کیا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ معاشرے میں تقسیم اور نفرت پھیلانے کے لیے بنائی گئی زہریلی فلموں کی نمائش کی اجازت کیسے دی گئی، جب کہ فلم فیسٹیول میں ’بیف‘ جیسی فلموں پر پابندی لگا دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سنگھ پریوار کے مراکز نے "دی کیرالہ اسٹوری” کے ذریعے پھیلائی گئی جھوٹی داستان کو بڑھاوا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’وہ اتفاق رائے سے ہونے والی شادیوں کو بھی فرقہ پرستی اور جبری تبدیلی مذہب کی مثال کے طور پر پیش کرکے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، "یہ ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ جھوٹے پروپیگنڈے سے کیرالہ کی سیکولر بنیادیں کمزور نہ ہوں اور سیکولرازم اور بھائی چارے کی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے مسترد کریں۔”
کیرالہ ون پر بھی تنقید ہوئی تھی
یاد رہے کیرلہ ون یعنی The Kerala Story پر بھی ریلیز کے وقت شدید سوالات اور اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔فلم پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس میں مسلمانوں کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے اور ایک مخصوص بیانیے کے ذریعے معاشرتی نفرت کو ہوا دی گئی۔ متعدد سیاسی جماعتوں، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے اسلاموفوبک اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا تھا۔
کئی ریاستوں میں فلم کے خلاف احتجاج ہوئے، جب کہ بعض ریاستی حکومتوں نے اس پر پابندی یا ٹیکس فری کرنے کے فیصلوں کو متنازع بنا دیا۔ ناقدین کے مطابق فلم میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور کہانی کو حقائق کے برعکس اور مبالغہ آمیز کہا گیا، جس سے ایک پوری برادری کو بدنام کرنے کی کوشش محسوس کی گئی۔
اسی پس منظر کی وجہ سے اب کیرلہ 2 پر بھی پہلے ہی دن سے سخت تنقید سامنے آ رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی فلم بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو آگے بڑھا سکتی ہے۔