قائداعظم کے مزار کی تاریخ اور عوامی چندے سے تعمیر کی کہانی
کراچی: 11 ستمبر 1948 کو قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد ان کی قبر انتہائی خستہ حالت میں رہی اور یہ صورت حال تقریباً 12 سال تک قائم رہی۔ اس دوران قائداعظم کا مزار کسی مناسب دیکھ بھال کے بغیر کھڑا رہا، جس سے ان کے حامیوں اور عوام میں تشویش پائی جاتی تھی۔
19 ستمبر 1960 کو انڈس واٹر ٹریٹی پر دستخطوں کے سلسلے میں بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کراچی تشریف لائے۔ اس موقع پر انہوں نے قائداعظم کے مزار پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ مزار کی حالت دیکھی تو نہرو نے ایوب خان سے کہا "اتنے نفیس انسان کو کس حالت میں چھوڑ رکھا ہے؟ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تو عوام سے چندہ لے کر مزار تعمیر کر لیں۔ ہم نے مہاتمہ گاندھی کی یادگار بھی عوامی چندے سے بنائی تھی۔”
اس کے بعد عوامی چندے کے ذریعے قائداعظم کے مزار کی تعمیر کا عمل شروع ہوا اور 1971 میں یہ مزار مکمل ہوا۔ قائداعظم کا مزار آج وفاق کے کنٹرول میں ہے اور عوام کے لیے محدود رسائی کے ساتھ کھولا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالودود قریشی (ستارہ امتیاز) نے اس تاریخی واقعے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ قائداعظم کے مزار کی تعمیر میں عوامی کردار اور تعاون بے حد قابلِ تعریف ہے، جو قوم کے لیے ایک تاریخی مثال ہے۔