تحریر: ارشد میر

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے اسلامی مراکز اور صحافیوں کو اب ایک نئے اور وحشیانہ انداز سے نشانہ بنا نا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ مقبوضہ علاقہ میں دینی مراکز اور لوگوں کے ذاتی کوائف جمع کرنے کی کاروائیاں پہلے بھی کئی بار ہوئی ہیں تاہم یہ نئی اسرائیلی طرز کی روش ہے جس میں مساجد و مدارس، امام بارگاہوں، زیارات اور دیگر مذیبی مقامات کے بارے میں باریک،غیر ضروری اور ذاتی نوعیت کی معلومات بھی حد درجہ تفصیل کے ساتھ طلب کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں کئی صفحات پر مشتمل فارم تقسیم کئے جارہے ہیں جن میں مذکورہ مراکز کے حجم، سنہ تعمیر، لاگت، زمین و تعمیر کے وسائل کے ذرائع، امام، خطیب اور موذن کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچے میں شامل افراد کے نام، پتہ، فون ، شناختی کارڈ وپاسپورٹ کے نمبر، پیشہ، ذرائع آمدن، موبائل فونز میں انسٹال ایپس، مراکز کو چلانے کے لئے آنے والے فنڈز کے ذرائع اور دیگر معلومات کا درج کیا جانا ضروری ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس جبری پروفائلنگ کو رپورٹ کرنے پر صحافیوں کو تھانوں میں طلب کرکے ان سے جبری معافی ناموں پہ دستخط لینے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں جو انسانی حقوق کے ساتھ آزادی صحافت کی بھی بیخ کنی ہے۔
14 جنوری کو معروف کشمیری صحافی بشارت مسعود، جو دی انڈین ایکسپریس سے وابستہ ہیں، کو سری نگر کے سائبر پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا۔ پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد انہیں سات گھنٹے انتظار کروایا گیا اور پھریہ حکم دیکر جانے دیا گیا کہ اگلے روز وہ کسی دوست یا ساتھی کو بھی ساتھ لے آئیں۔ اگلے دن جب بشارت دوبارہ حاضر ہوئے تو انہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر لے جایا گیا جہاں ایک بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا گیا جس میں ان کے لئے ہدایت درج تھی کہ وہ اپنی “غلطی” دوبارہ نہ دہرائیں۔ بشارت مسعود نے اس پر حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ بانڈ میں مذکور “غلطی” کیا ہے۔ بعد میں انھیں بتایا گیا کہ یہ بانڈ اس خبر سے منسلک ہے جو انہوں نے اسلامی مراکز کی جبری پروفائلنگ کے بارے میں شائع کی تھی جس پر پولیس کا موقف تھا کہ یہ خبر عوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔ بشارت مسعود نے دستخط کرنے سے انکار کیا اور بعد میں انھیں تین دن تک مزید حاضری دینے پر مجبور اور ہراساں کیا گیا۔ بشارت کے علاوہ ہندوستان ٹائمز کے رپورٹرعاشق حسین اور کم از کم دو دیگر صحافیوں کو بھی طلب کیا گیا تاہم انھوں نے بھی تاناشاہی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا۔
بھارت مجھے پھانسی دینا چاہتا ہے، یاسین ملک نے قوم کو خبردار کردیا
اس جبری اور آمرانہ عمل پر سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کارکنوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور سابق چئیرمین میر واعظ عمر فاروق نے اسے کشمیریوں کے مذہبی تشخص اور صحافت پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی مراکز کو انتقامی کارروائیوں کا ہدف نہیں بنایا جانا چاہیے اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتی۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اس اقدام کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو تھانوں میں طلب کیا جا رہا ہے اور انہیں علاقے کی اصل صورتحال سامنے نہ لانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کی دختراور پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ صحافیوں کو غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات رپورٹ کرنے پر دھمکیاں دی جاتی ہیں اور خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بھارتی حزب اختلاف کانگریس کی مقبوضہ علاقہ کی شاخ کے سربراہ طارق حمید قرہ اور نیشنل کانفرنس کے ترجمان طاہر سعید نے بھی اس اقدام پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوریت کا سنگ بنیاد ہوتی ہے اور صحافیوں کو خاموش کرانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کی جانی چاہیے۔ رکن نام نہاد اسمبلی سجاد لون نے حقائق پر مبنی رپورٹنگ پر صحافیوں کو طلب کرنے کو افسوسناک قرار دیا جبکہ کمیونیٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے بانڈ پر دستخط کروانے کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد، آئمہ اور دینی مدارس کی پروفائلنگ بھارت کی جانب سے مذہبی اداروں پر کنٹرول جمانے کی ایک واضح کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ بھارت کے اس جابرانہ عمل کی سنگینی اتنی ہے کہ بی بی سی، ڈوئچےویلے، رائٹرز، الجزیرہ اور میڈیا کے دیگر عالمی اداروں نے بھی اسے تفصیل کے ساتھ رپورٹ کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سری نگر میں پولیس نے آئمہ کو چار صفحات پر مشتمل فارم تقسیم کیا، جس میں مساجد کے انتظامات، نظریاتی وابستگی، فنڈنگ کے ذرائع، ماہانہ اخراجات، زمین کی ملکیت اور آئمہ و موذن کی ذاتی معلومات شامل ہیں۔ فارم میں موبائل نمبر، ای میل، بینک اکاؤنٹس، پاسپورٹ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بیرون ملک رشتہ دار اور فون ماڈل کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ الجزیرہ کے مطابق محصورکشمیری اس مشق کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے مذہبی اداروں پر قابو پانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سرینگر کے رہائشی محمد نواز خان نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ فارم خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں اور سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ متحدہ مجلس علماء نے بھی اسے مسلم کمیونٹی کو کمزور کرنے اور مساجد کو کنٹرول کرنے کی کوشش قرار دیا۔ سرینگر کی ایک مسجد کے امام میر حافظ ناصر نے الجزیرہ کو بتایا کہ بار بار کی جانے والی یہ مشقیں، بشمول کشمیر سے باہر رہنے والے خاندانوں کے افراد کی تفصیلات، حق رازداری کی خلاف ورزی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا کہ کیا ہندو مندروں، سکھ گوردواروں یا گرجا گھروں کے بارے میں بھی ایسی کارروائی کی جاتی ہے؟ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے نئی دہلی کی مسلط شدہ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی منتخب قیادت کی رضامندی کے بغیر اس مشق کو روکیں۔
یہ اقدامات دراصل اُس سیاہ موڑ کا تسلسل ہیں جو اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے ساتھ کشمیر کی تاریخ پر ثبت کیا گیا۔جب بھارت نے مقبوضہ خطے پر براہِ راست اور بے لگام کنٹرول قائم کرتے ہوئے مذہبی آزادیوں، شہری حقوق اور سیاسی اظہار کے دروازے یکے بعد دیگرے بند کر دیے۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو سیل کرنا، جمعہ اور عید کی نمازوں پر پابندی لگانا اور عبادت گاہوں کو نگرانی کے مراکز میں بدلنے کی کوششیں اس بات کا واضح اعلان تھیں کہ اب طاقت، ایمان اور سچ، تینوں کو ایک ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔ الجزیرہ کو دیے گئے بیانات میں سیاسی مبصرین نے درست نشاندہی کی کہ یہ محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ ایک منظم فکری یلغار ہے جس کا مقصد مذہب کو خوف، اور عبادت کو جرم میں تبدیل کرنا ہے۔
دینی اداروں کی پروفائلنگ، صحافیوں پر دباؤاورجبری بانڈز اس منصوبہ بند حکمتِ عملی کے وہ اوزار ہیں جن کے ذریعے قابض انتظامیہ کشمیری سماج کی روح کو مسخ کرنا چاہتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور آزادیٔ صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک کھلا چیلنج ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب قلم کو زنجیر پہنائی جاتی ہے تو لفظ شعلہ بن جاتا ہے، اور جب سجدے روکے جاتے ہیں تو ایمان احتجاج میں ڈھل جاتا ہے۔
کشمیر کے صحافی، تمام تر دھمکیوں اور ہراسانی کے باوجود، سچ کی شمع تھامے کھڑے ہیں۔یہ محض پیشہ ورانہ استقامت نہیں بلکہ ایک اخلاقی بغاوت ہے اور کشمیری عوام، جو دہائیوں کی مزاحمت سے کندن بن چکے ہیں، بخوبی جانتے ہیں کہ شناخت کو مٹانے کی ہر کوشش اسے مزید واضح کر دیتی ہے۔ مذہبی و قومی جذبہ وہ قوت ہے جو بظاہر کمزور اور شکستہ پر قوموں کو بھی پرواز عطا کرتی ہے۔ کشمیری تو ویسے ہی مزاحمت کی روایت کے امین ہیں۔یہ ان کے شعور، ان کی تاریخ اور ان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔
چنانچہ بھارت کی سیاسی، معاشی، مذہبی اور نسلی تطہیر کی یہ مہم کشمیری مزاحمت کو دبانے کے بجائے اسے نئی مہمیز دے گی۔ حقائق چھپانے، صحافیوں کو ڈرانے اور عبادت گاہوں کو قید کرنے کی ہر کوشش انجام کار ناکام ہوگی۔ کیونکہ آزادیٔ اظہار اور مذہبی آزادی وہ صدائیں ہیں جنہیں خاموش نہیں کیا جا سکتا۔یہ صدا بہ صدا، نسل بہ نسل، وادی سے دنیا تک گونجتی رہیں گی۔ کشمیر بولے گا، قلم لکھے گا اور سجدہ ہوتا رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ یہی اس جدوجہد کا حتمی اور ناقابلِ شکست اختتام ہے۔