اسلام آباد ۔۔۔
بھارت کی تہاڑ جیل میں سات سال سے پابند سلاسل جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے اپنے قریب ترین ساتھیوں محمد رفیق ڈار، سلیم ہارون اور سید الطاف حسین قادری کی وساطت سے پارٹی قیادت اور کارکنوں کے علاوہ سیزفائرلائن کے دونوں اطراف سے ریاست جموں کشمیر کی عوام اور دنیا بھر میں پھیلے کشمیریوں کے لئے اپنا پیغام بھیجا ہے۔

اسیر رہنما یاسین ملک نے بھارتی تہاڑ جیل سے باضابطہ طور پر بھیجے گئے اپنی نوعیت کے پہلے اور واضح پیغام میں اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم بھارت کی موجودہ مرکزی حکومت کی ایماء پر این آئی اے سمیت دیگر بھارتی تحقیقاتی و خفیہ ادارے میرے خلاف سیاسی عناد پر مبنی دائر کردہ مقدمات میں مجھے متعصبانہ عدالتی فیصلے کا شکار بنانے پر کمربستہ ہیں، جس کی انجام دہی میں وہ ہر غیرقانونی و غیراخلاقی حربہ استعمال کرتے ہوئے غیرمنصفانہ عدالتی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو غالب امکان ہے منصوبے کے تحت پھانسی کی سزا سنانے پر منتج ہوں گے۔
یاسین ملک نے اپنے پیغام میں کہا کہ 22 فروری 2019ء کو میری گرفتاری سے لے کر 25 مئی 2022ء کو نئی دہلی میں خصوصی عدالت کے ذریعے مجھے عمرقید کی سزا سنائے جانے تک اور اب پھانسی کے لئے منصوبہ بند سازش کے تحت تسلسل کے ساتھ جاری یکطرفہ عدالتی کاروائیاں دراصل حکومت کے خاکوں میں رنگ بھرنا ہے جبکہ میں اپنے اوپر عائد جملہ بےجا الزامات کی اصل حقیقت گذشتہ سال ماہِ اکتوبر میں عدالت کو پیش کردہ اپنے تفصیلی تحریری بیان سے قبل کئی بار خصوصی عدالت اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے ثبوتوں کے ساتھ زبانی بھی بیان کرچکا ہوں۔
یاسین ملک نے پیغام میں کہا کہ میں اپنے شہید ہونے والے قریب ترین دوستوں بالخصوص اشفاق مجید وانی اور شیخ عبدالحمید کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پر کاربند ہوں، جس کو نبھانے میں نہ ماضی میں ہچکچایا اور نہ اب میں نے اپنے پایہء استقلال میں کوئی لرزش آنے دی۔
یاسین ملک نے کہا کہ نوجوانی کے بام عروج سے لے کر آج ادھیڑ عمری تک میں نے دلجمعی، اخلاص، نیک نیتی اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے رواں قومی تحریک آزادی کو سنجیدگی اور شفافیت کے ساتھ پروان چڑھایا۔ اس دوران میں قوم پر لگے بزدلی کے داغ کو مٹانے اور کئی دہائیوں سے دانستہ طور پر نظرانداز کردہ بلکہ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے کے اندر گرد و غبار میں دفن حل طلب مسئلہ جموں کشمیر کو بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز بنانے کی غرض سے پہلے ایک سپاہی اور بعدازاں بھارتی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری ہی کے اصرار پر بندوق کو خیرباد کہتے ہوئے میں ایک انقلابی لیکن عدم تشدد کے اصولوں پر کاربند سیاسی مزاحمتکار بنا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ مسئلہ جموں کشمیر کے فوری، پُرامن، پائیدار اور منصفانہ حل کے لئے ضرورت پڑنے پر میں ہند وپاک اور بین الاقوامی برادری کی رضامندی سے مزاکرات کار بھی بنا اور اللہ گواہ ہے کہ اپنی جان پر کھیلتے ہوئے میں نے پورے اعتماد کے ساتھ ان مزاکرات کی کامیابی کے لئے ہر ممکنہ حد تک اپنی استطاعت سے بڑھ کر بھرپور اور مثبت کردار ادا کیا۔

یاسین ملک نے کہا کہ فریقین کے درمیان موجود گہرا باہمی عدم اعتماد، انتہاء پسندی و سخت گیریت، طاقت کا نشہ، سفارتی و افسرشاہی داوپیچ اور ہر دو اطراف سے نہ تھمنے والی سازشی و خود کو تباہ کرنے والی کاروائیوں کے علاوہ بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی و عدم دلچسپی اور کشمیریوں کی اپنی نااتفاقی و غلط طرز عمل مسئلہ جموں کشمیر پر ہونے والے مزاکرات کی ناکامی کا سبب بنے۔ انہوں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کے آبرومندانہ اور منصفانہ حل کے لئے جملہ فریقین (ہند و پاک اور کشمیری) کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مزاکرات کی بحالی از بس ضروری ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے حصول میں ریاست جموں کشمیر دوستی کے پُل کا کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیری قوم کا کوئی جنگجوانہ پس منظر نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کی اس قوم نے ریاست پر کسی بھی بیرونی طاقت کے ناجائز قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف دل سے بھرپور نفرت اور اپنے ہی مقامی انداز میں جارحانہ نہ صحیح لیکن کسی نہ کسی سطح پر مزاحمت جاری رکھی جو قابضین کے انخلاء کے ساتھ بالآخر کامیابیوں میں تبدیل ہوتی رہیں۔
یاسین ملک نے اپنے تینوں قریبی ساتھیوں (محمد رفیق ڈار، سلیم ہارون اور الطاف قادری) کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میں بابائے قوم شہید محمد مقبول بٹ، شہید اشفاق مجید وانی اور شہید شیخ عبدالحمید سمیت جملہ شہدائے جموں کشمیر کے راستے پر گامزن ہوں اور سمجھتا ہوں کہ بے مثال قربانیوں سے لبریز اس تحریک کو قومی آزادی سے ہمکنار کرنا اب جملہ آزادی پسند ساتھیوں بالخصوص جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سے وابستہ میرے جملہ رفقائے کار کی ذمہ داری ہے۔ انہوں اپنے پیغام میں اُن جملہ احباب کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا جو مجھ سمیت دیگر آزادی پسند کشمیری اسیران کی آواز بن رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یاسین ملک نے اپنے پیغام میں خصوصی طور پر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کو یکجا کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
معزز نمائندگان، اس ضمن میں گذشتہ روز جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی اعلی قیادت کا ایک ہنگامی اجلاس پارٹی کے سنٹرل انفارمیشن آفس میں منعقد ہوا جس میں یاسین ملک صاحب کے مقدمے کی تازہ صورتحال اور اُن کے پیغام پر غوروخوض ہوا۔ اجلاس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ آزاد کشمیر قانون سا اسمبلی کے سپیکر اور پاکستان نیشنل اسمبلی کے سپیکر سے اپنی اپنی اسمبلیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر نے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ یاسین ملک کا مسئلہ زیر بحث لاکر مشترکہ قرار داد منظور ہو۔ علاوہ ازیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے سیاسی و سفارتی مہم کو تیز تر کرتے ہوئے ہند و پاک کی سول سوسائٹی بالخصوص سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے علاوہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کی طرف فوری طور پر خطوط روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔