ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، بڑے تصادم کے خدشات گہرے
واشنگٹن/تہران: امریکی جنگی بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ایرانی پانیوں کے قریب پہنچنے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں امریکی جنگی بیڑے کی تعیناتی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اور تہران براہِ راست فوجی ٹکراؤ کے کس قدر قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی قیادت ایک طرف اندرونی احتجاجی تحریک کے دباؤ اور دوسری جانب ایک ایسے امریکی صدر کے بیانات کے درمیان گھری ہوئی ہے، جنہوں نے اپنے عزائم کو جان بوجھ کر غیر واضح رکھا ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایسا نیا معاہدہ کرے جس میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا ہے کہ دھمکیوں اور دباؤ کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت اسی صورت ہو سکتی ہے جب غیر معمولی مطالبات اور دباؤ کی پالیسی ختم کی جائے۔
عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں ان کا امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، البتہ ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
خیال رہے کہ ایران اس سے قبل بھی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔
ادھر ایران نے خلیج فارس کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر فوجی مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے نوٹس ٹو ایئر مین جاری کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی نوٹس کے مطابق یہ فوجی مشقیں 27 سے 29 جنوری تک پانچ ناٹیکل میل کے دائرے میں کی جائیں گی، جن میں زمین کی سطح سے لے کر 25 ہزار فٹ تک کی فضائی حدود شامل ہوں گی۔ اس دوران متعلقہ فضائی حدود کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور پروازوں پر پابندیاں عائد رہیں گی۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا بھر کو منتقل کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔