بلوچستان میں کشیدگی کے باوجود پولیو مہم کا دعویٰ
بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں کشیدگی انتہائی شدید ہو چکی ہے،ہلاکتوں کے علاوہ، مستونگ جیل سے 27 قیدی فرار، خاران میں قبائلی رہنما کے گھر پر حملہ اور دالبندین، گوادر و پسنی میں مختلف جگہوں پر حملے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں حالات کشیدہ ہیں، عوامی اجتماعات پر پابندی ہے اور شہریوں کو انٹرنیٹ کی سہولت میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
صوبائی وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ 145 شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں، جن کی لاشیں سکیورٹی فورسز کے قبضے میں ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نوشکی، مستونگ، قلات، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت کئی علاقوں میں باہر نکلنا خطرناک ہے، اور ڈیرہ بگٹی و مزاری گوٹھ میں بھی سیکورٹی کے سنگین مسائل ہیں۔
دوسری جانب، حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں تقریباً 12 لاکھ 8 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ تاہم سیکورٹی کے سنگین چیلنجز ہیں اور فورسز بھی کانوائے کی صورت
میں مووکرتی ہیں ،ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس تعداد میں ویکسینیشن کیسے ممکن ہو سکی؟اور پولیو ٹیمیں کرفیو کے حالات میں کیسے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہیں ۔ خاص طور پر جب صوبے میں کچی کلاس میں صرف 191,739 بچے داخل ہیں، اور ایک
اندازے کے مطابق اس سے زائد سکولوں سے باہر ہیں ،جو پولیو کے قطرے پینے کی عمر میں ہیں ، اس پس منظر میں جاری کردہ ڈیٹا پر شبہات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
ملک بھر میں 2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم تیزی سے جاری ہے، جس میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دے رہے ہیں۔ این ای او سی کے مطابق ابتدائی دو روز میں 2 کروڑ 68 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے، جن میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر کے علاوہ بلوچستان بھی شامل ہے۔
بلوچستان کے ایلمنٹری سکولز کے ڈیٹا کے مطابق، 2026 میں کل طلبہ کی تعداد 1,079,962 ہے، جن میں 599,040 لڑکے اور 480,922 لڑکیاں شامل ہیں۔جب کہ کچی کلاس میں صرف 191,739 بچے داخل ہیں، تعلیمی مراحل میں کمی اور جنس کے تناسب کے اختلافات واضح ہیں، اور معذور طلبہ کی تعداد 14,702 ہے، جو تعلیمی شمولیت کے حوالے سے خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔
کوئٹہ شہر تک دہشتگرد کیسے پہنچے؟
یہ تمام اعداد و شمار حکومتی اور تعلیمی اداروں کے لیے چیلنج ہیں کہ وہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے تعلیمی معیار اور صحت کے پروگراموں کی کامیابی کو یقینی بنائیں، خاص طور پر ایسے مشکل حالات میں جہاں سیکورٹی خطرات اور انفراسٹرکچر کی کمزوریاں واضح ہیں۔