اسلام آباد
انسانی حقوق کی آڑ میں پاکستان مخالف سرگرمیاں۔۔ ایمان مزاری کیس کی سماعت پر سپریم کورٹ آمد ۔۔۔ ناروے کے سفیر سفارتی آداب بھول گئے۔۔ پاکستان نے سفیر کو حد میں رہنے کی وارننگ دے دی۔۔۔۔
وزارت خارجہ نے ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر سخت الفاظ میں ڈیمارش جاری کر دیا۔۔ مراسلے میں کہا کہ نارویجن سفیر کی سپریم کورٹ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت نہ صرف سفارتی حد سے تجاوزتھی بلکہ پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں براہِ راست مداخلت بھی تھی۔
https://x.com/i/status/1999133218864505160
وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا کسی بھی ملک کا سفیرحساس اورزیرِسماعت مقدمے میں عدالتی عمل کو متاثر کرنے یا اس پر اثرانداز ہونے کا تاثر دے تو یہ سفارتی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔ یہ اقدام ویانا کنونشن 1961کے آرٹیکل 41 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔۔
دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ناروے کی مختلف این جی اوز خصوصاً وہ تنظیمیں جو انسانی حقوق کے نام پر سرگرم ہیں پاکستان میں ایسے عناصر کی حمایت اورانہیں سپورٹ بھی کرتی ہیں جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ یہ ڈیمارش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے اور عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنا بخوبی جانتا ہے۔