مروہ پٹی کے گاؤں انیار کی رہائشی جنت بیگم کا چار روز قبل اپنے گھر میں انتقال ہو گیا
کشتوار۔۔ کشمیر کی ایک اور عمر رسیدہ ماں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے انتظار میں اس دنیا سے چلی گئی ۔ جنت بیگم نامی خاتون نے بیٹے جو کشمیر کی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ہے ، سے بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے ہتھیار ڈال کر گھر واپس آنے کی اپیل کی تھی ۔ جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع میں اس کی آخری خواہش ادھوری رہ جانے کے بعد انتقال کرگئی۔
مروہ پٹی کے گاؤں انیار کی رہائشی جنت بیگم کا چار روز قبل اپنے گھر میں انتقال ہو گیا ۔ اس نے گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں جذباتی ویڈیو اپیلیں کی تھیں، جس میں اپنے بیٹے ریاض احمد سے گھر واپس آنے کی اپیل کی تھی۔
سوشل میڈیا پر وائر ویڈیو پیغام میں بزرگ خاتون کا کہنا تھا کم از کم جب ہم زندہ ہوں تو اسے یہاں ہونا چاہئے اور میرے تابوت کو کندھا دینا چاہئے ۔
ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ جنت بیگم اپنے بیٹے کو واپس دیکھے بغیر انتقال کرگئیں۔ رشتہ دار نے مزید کہا، ’’اس کی آخری خواہش ادھوری رہ گئی۔
ریاض احمد، ایک اے پلس زمرہ کا حزب المجاہدین کمانڈرہے ، بھارتی فورسز نے اس پر 10 لاکھ روپے کا انعام ہے۔ ریاض احمد نے تقریباً 15 سال قبل حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق خطے میں کام کرنے والے سب سے طویل عرصے تک زندہ رہنے والے حزب کمانڈروں میں سے ہے۔
جنت بیگم نے اپنے پیغامات میں بیٹے سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ والدین کو بڑھاپے میں دکھ سہنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم اکیلے ہیں، ہمارا خیال کون رکھے گا؟
یاد رہے مسئلہ کشمیر کی وجہ سے وادی کشمیر المیات کی ماں بن چکی ہے جہاں والدین اپنے نوجوان بیٹوں کے جنازے اٹھاتے ہیں ، مائیں سالہا سال سے اپنے لخت جگروں کا انتظار کررہی ہیں ۔