
تحریر: محمد حنیف تبسم
شخصیت خیرالعمل سے بھرپور ہو تواس کی بدولت معاشرہ سنور جاتا ہےانسان کی اصل پہچان اس کے عہدے دولت، شہرت یا ظاہری وجاہت سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے کردار اس کے اخلاق اور اس کے خیرالعمل سے ہوتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ دلوں پر حکومت کرتے ہیں جنہوں نے اپنے طرزِ عمل سے خیر بانٹی آسانیاں پیدا کیں اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا ایک منصب وقتی ہوتا ہے دولت عارضی ہوتی ہے شہرت بھی وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہےمگر نیک عمل کی خوشبو صدیوں تک باقی رہتی ہےوہ شخصیت جو خیرالعمل سے بھرپور ہو اندھیرے میں چراغ کی مانند ہوتی ہےچراغ خود بھی جلتا ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی منور کرتا ہے اسی طرح ایک نیک انسان اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنے قول و فعل سے دوسروں کے لیے روشنی اور رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے ایسے افراد معاشرے کی اصل بنیاد اور ستون ہوتے ہیں
آج کے دور میں جہاں مفادات کی دوڑ تیز ہو چکی ہے جہاں خود غرضی انا اور مقابلہ بازی نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے وہاں خیر کا پیغام عام کرنا ایک عظیم خدمت ہے خیر صرف مالی مدد کا نام نہیں خیر ایک مسکراہٹ بھی ہے ایک تسلی بخش جملہ بھی کسی پریشان حال کے سر پر ہاتھ رکھ دینا بھی کسی گرتے ہوئے کو سہارا دینا بھی اور کسی کی خامی کو معاف کر دینا بھی خیر ہی کی صورتیں ہیں۔جو لوگ اپنے قول و فعل سے خیر تقسیم کرتے ہیں وہ دلوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں وہ نفرتوں کی دیواروں کو گراتے اور محبت کے پل تعمیر کرتے ہیں ان کا وجود معاشرے کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔
خیر بانٹتے رہیے یہی اصل سرمایہ ہےخیر بانٹنا دراصل اپنے لیے خیر جمع کرنا ہے دنیا کی سب سے بڑی کمائی نیک نامی اور دلوں کی دعائیں ہیں جب ہم کسی کے کام آتے ہیں تو بظاہر ہم اس کی مدد کر رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت میں ہم اپنی آخرت اور اپنے باطن کو سنوار رہے ہوتے ہیں۔
اگر ہر فرد یہ عہد کر لے کہ وہ روزانہ کم از کم ایک خیر کا کام ضرور کرے گاچاہے وہ کسی کو راستہ بتانا ہو کسی کو حوصلہ دینا ہو یا کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا ہو تو معاشرے کی فضا بدل سکتی ہےنفرت کی جگہ محبت بدگمانی کی جگہ اعتماد اور انتشار کی جگہ اتحاد لے سکتا ہےخیر کی طاقت یہ ہے کہ وہ پھیلتی ہےایک نیک عمل دوسرے نیک عمل کو جنم دیتا ہے ایک مثبت سوچ کئی دلوں میں امید جگا دیتی ہے یہی وہ سلسلہ ہے جو معاشرے کو سنوارتا اور نسلوں کو متاثر کرتا ہے حقیقت ہےکہ خیر و شر کی کشمکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے وقتی طور پر شر غالب نظر آ سکتا ہےظلم طاقتور دکھائی دے سکتا ہےجھوٹ کا شور زیادہ سنائی دے سکتا ہے مگر انجام کار فتح ہمیشہ خیر ہی کو نصیب ہوتی ہےکیونکہ شر کی بنیاد کمزور ہوتی ہے وہ وقتی مفاد اور انا پر قائم ہوتا ہے جبکہ خیر اخلاص، صبر اور سچائی پر استوار ہوتا ہےیہ ایک اٹل اصول ہے کہ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو ایک چھوٹی سی روشنی اسے ختم کر سکتی ہے اسی طرح شر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ لگے سچائی اور بھلائی کی مستقل مزاجی اسے شکست دے دیتی ہےہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شر کا مقابلہ شر سے نہیں کیا جا سکتانفرت کا جواب محبت سے، زیادتی کا جواب انصاف سے اور سختی کا جواب نرمی سے دینا ہی اصل کامیابی ہے یہی وہ رویہ ہے جو معاشرے کو مضبوط مستحکم اور پائیدار بناتا ہےزندگی کا سفر کبھی مکمل طور پر ہموار نہیں ہوتا راستے کی مشکلات دراصل ہمیں روکنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں سنوارنے کے لیے ہوتی ہیں آزمائشیں ہمیں ہماری کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہیں ہمارے حوصلے کو آزماتی ہیں اور ہمیں بہتر انسان بننے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
اگر راستے میں رکاوٹ نہ ہو تو انسان اپنی رفتار اور سمت کا جائزہ نہیں لے پاتا مشکلات ہمیں رک کر سوچنے اپنی نیت کو پرکھنے اور اپنے مقصد کو واضح کرنے کا موقع دیتی ہیں یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو شخصیت کو نکھارتے اور کردار کو مضبوط کرتے ہیں بعض اوقات ہم کسی آزمائش کو بدقسمتی سمجھتے ہیں مگر بعد میں وہی آزمائش ہماری کامیابی کی بنیاد بن جاتی ہے اس لیے مشکلات سے گھبرانے کے بجائے انہیں اپنے اندرونی ارتقاء کا ذریعہ سمجھنا چاہیےجب نیت صاف ہو مقصد نیک ہو اور راستہ خیر کا ہو تو ربّ کریم کی نصرت شاملِ حال ہو جاتی ہے دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یقین کی طاقت ہے یہ یقین کہ جو شخص خیر کے راستے پر چلتا ہے، اسے تنہا نہیں چھوڑا جاتا”اللہ کریم آپ کے حامی و ناصر ہوں” یہ جملہ دراصل اس اعتماد کا اظہار ہے کہ بھلائی کے راستے پر چلنے والے کے لیے آسمان کی مدد ضرور آتی ہےمشکلات وقتی ہو سکتی ہیں مگر انجام خیر کا ہی ہوتا ہے عہد کریں کہ ہم خیر کو اپنا شعار بنائیں گےہم نفرت کے جواب میں محبت دیں گےہم مشکلات کو صبر اور حوصلے سے قبول کریں گےہم سچائی اور انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑیں گےہم اپنی ذات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گےتاریخ گواہ ہے کہ خیر کی روشنی کبھی بجھتی نہیں وہ دلوں سے دلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے وہ نسلوں کو متاثر کرتی ہے وہ وقت کے ساتھ اور زیادہ روشن ہوتی جاتی ہےاللہ کریم ہم سب کو خیر بانٹنے کی توفیق عطا فرمائیں ہمارے دلوں کو اخلاص سے بھر دیں اور ہمیں ایسے اعمال کی طرف رہنمائی کریں جو ہمارے لیے بھی باعثِ نجات ہوں اور معاشرے کے لیے بھی باعثِ رحمت بھی ہو کیونکہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہو۔
نوٹ ۔۔۔۔ محمد حنیف تبسم سنیر صحافی و کالم نگار ہیں ۔ مختلف اخبارات میں لکھتے ہیں اور ان کی قومی اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر ہے